میدان کربلا میں صبح کا منظر
Marsiya of Meer Anee Subha ka sama
میر انیس کی نظم صبح کا سماں کی تشریح
نظم صبح کا سماں کے شاعر میر انیس ہیں۔میرانیس کا مرثیہ نگاری میں ایک بلند مقام ہے
تشریح
اس شعر میں میر انیس اپنے مخصوص تاثراتی لب و لہجے میں وادی کربلا میں امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن ہونے والی صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس روز صبح کا منظر بڑا ہی پر کیف تھا دن کی روشنی میں ستاروں کی چمک ماند پڑ رہی تھی،گویا ہر سو نور ہی نور پھیلا ہوا تھا۔اگر اس حسین صبح کے نظارے کو موسیٰ علیہ السلام بھی دیکھ لیتے تو بالکل اسی طرح بیہوش ہوجاتے، کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل سے اپنا جلوا دکھانے کی ضد کی تھی اور ایک معمولیسی جھلک پر ہی نور کی تاب نہ لا کر بیہوش ہو گئے تھے اور کوہِ طور پہاڑجل کر راکھ ہوگیا اس جنت نما کربلا کی وادی میں چاروں طرف پھولوں کی بہار سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بھر پور اظہار ہو رہا تھا،اور جگہ جگہ درختوں کی ڈالیوں میں پرندے بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن تھے۔اس وادی کی خوبصورتی دنیا کے تمام حسین باغوں کو شرمندہ کر رہی تھی۔اور تمام جنگل آمد امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خوشی میں پھولوں کی خوشبو سے مہکا ہوا تھا۔
![]() |
Meer Anee |
حوالہ نظم
یہ شعر نظم "صبح کا سماں" سے گیا ہے۔
نظم صبح کا سماں کے شاعر میر انیس ہیں۔میرانیس کا مرثیہ نگاری میں ایک بلند مقام ہے۔
تشریح
فجر کے وقت پھولوں کا کھلنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتا ہے اور درختوں پر ہر طرف پرندے اللہ کی حمد و ثنا کر رہے ہیں۔۔
تعارف شاعر
نظم صبح کا سماں کے شاعر میر انیس ہیں۔میرانیس کا مرثیہ نگاری میں ایک بلند مقام ہے
ا۔زمین کی وادی کی دلکشی اور حسن اتنا بڑھ گیا تھا کہ باغات بھی اسکی خوبصورتی سے شرمندہ تھےنظم میں شاعر صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اس وادی کی خوبصورتی یہ تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے جنت کے باغات میں سے ایک باغ یہاں رکھ دیا ہو۔.
اطلس ایک نہایت قیمتی ریشمی کپڑا ہوتا ہے۔ اس پر اگر سونے کے تاروں سے بیل بوٹے بنادیئے جائیں تو اس کی قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔یہاں اس ترکیب سے اشارہ آسمان کی طرف ہے کہ نیلے آسمان پر سورج کی زرد کرنیں ایسی ہیں جیسے اور صحرا میں سبز پودے ہوا کی وجہ سے ڈول رہے تھے اور نیلا آسمان یہ منظر دیکھ کر شرما رہا تھا۔اطلس پر سونے کے تاروں سے کام کیا گیا ہو۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں