جون 19, 2022

نظم صبح کا سماں کی تشریح Meer Anees subha ka sama


میدان کربلا میں صبح کا منظر

Marsiya of  Meer  Anee Subha  ka sama 

 میر انیس کی نظم صبح کا سماں کی تشریح


Marsiya of  Meer  Anee Subha  ka sama
نظم صبح کا سماں




شعر نمبر1
  
 حوالہ نظم     

یہ بند نظم "صبح کا سماں" سے لیا گیا ہے۔ 

 تعارف شاعر    

     نظم صبح کا سماں کے شاعر میر انیس ہیں۔میرانیس کا مرثیہ نگاری میں ایک  بلند مقام ہے

    تشریح

اس شعر میں میر انیس اپنے مخصوص تاثراتی لب و لہجے میں وادی  کربلا میں امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی  شہادت   کے دن ہونے والی صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  اس روز صبح کا منظر بڑا ہی پر کیف تھا  دن کی روشنی میں ستاروں کی چمک ماند پڑ رہی تھی،گویا ہر سو نور  ہی نور پھیلا ہوا تھا۔اگر اس حسین صبح کے نظارے کو موسیٰ علیہ السلام بھی دیکھ لیتے تو بالکل اسی طرح  بیہوش ہوجاتے، کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل سے اپنا جلوا دکھانے کی ضد کی تھی اور ایک معمولیسی جھلک پر ہی نور کی تاب نہ لا کر بیہوش ہو گئے تھے اور کوہِ طور  پہاڑجل کر راکھ ہوگیا اس جنت نما کربلا کی وادی میں چاروں طرف  پھولوں کی بہار سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بھر پور اظہار ہو رہا تھا،اور جگہ جگہ درختوں کی ڈالیوں میں پرندے بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن تھے۔اس وادی کی خوبصورتی دنیا کے تمام حسین باغوں کو شرمندہ کر رہی تھی۔اور تمام جنگل آمد  امام حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خوشی میں پھولوں کی خوشبو سے مہکا ہوا تھا۔

        


 شعر نمبر2
Marsiya of  Meer  Anee Subha  ka sama

 Meer  Anee




                         حوالہ نظم

 یہ شعر نظم "صبح کا سماں" سے گیا ہے۔

                           تعارف شاعر

  نظم صبح کا سماں کے شاعر میر انیس ہیں۔میرانیس کا مرثیہ نگاری میں ایک  بلند  مقام ہے۔

                          تشریح

فجر کے وقت پھولوں کا کھلنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتا ہے اور درختوں پر ہر طرف پرندے اللہ کی حمد و ثنا کر رہے ہیں۔۔

شعر نمبر3  

Marsiya of  Meer  Anee Subha  ka sama

 Meer  Anee


  حوالہ نظم
یہ شعر نظم "صبح کا سماں" سےلیا گیا ہے۔

 تعارف شاعر  

  نظم صبح کا سماں کے شاعر میر انیس ہیں۔میرانیس کا مرثیہ نگاری میں ایک  بلند مقام ہے

 

تشریح

 ا۔زمین کی وادی کی دلکشی اور حسن اتنا بڑھ گیا تھا کہ باغات بھی اسکی خوبصورتی سے شرمندہ تھےنظم میں شاعر صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اس وادی کی خوبصورتی یہ تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے جنت کے باغات میں سے ایک باغ یہاں رکھ دیا ہو۔.

ہر طرف پھولوں کی مہک پھیلی ہوئی تھی


   شعر نمبر4
Marsiya of  Meer  Anee Subha  ka sama

 Meer  Anee


حوالہ نظم 
یہ شعر نظم "صبح کا سماں" سےلیا گیا ہے۔
تعارف شاعر
نظم صبح کا سماں کے شاعر میر انیس ہیں۔میرانیس کا مرثیہ نگاری میں ایک  بلند مقام ہے۔
تشریح

اطلس ایک نہایت قیمتی ریشمی کپڑا ہوتا ہے۔ اس پر اگر سونے کے تاروں سے بیل بوٹے بنادیئے جائیں تو اس کی قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔یہاں اس ترکیب سے اشارہ آسمان کی طرف ہے کہ نیلے آسمان پر سورج کی زرد کرنیں ایسی ہیں جیسے اور صحرا میں سبز پودے ہوا کی وجہ سے ڈول رہے تھے اور نیلا آسمان یہ منظر دیکھ کر شرما رہا تھا۔اطلس پر سونے کے تاروں سے کام کیا گیا ہو۔ 

 

شعر نمبر5

Marsiya of  Meer  Anee Subha  ka sama

 Meer  Anee



حوالہ نظم
یہ بند نظم "صبح کا سماں" سے لیا گیا ہے۔ 
تعارف شاعر  
 نظم صبح کا سماں کے شاعر میر انیس ہیں۔میرانیس کا مرثیہ نگاری میں ایک  بلند مقام ہے
۔ تشریح
 درختوں کا ہوا کے ٹکرانے پر لہرانے کا منظر بے مثال تھا۔۔ہوا سر مستی میں پھولوں کی مہک کو چاروں طرف منتشر کر رہی ہر پتے پر شبنم کے قطرے ایسے نمودار ہوئے جیسے بے مثال موتی قربان ہو رہے ہوں۔ یعنی ایسا لگتا تھا جیسے پھول اور پتے شبنم کے قطرے نہیں بلکہ ہیرے ہیں۔ جو اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے تھے۔  

  حوالہ جات

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں